الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

غیر کفو میں نکاح

سوال

زید ہاشمی کے انتقال کے بعد اس کی بیوی نے اولاد کی نابالغی کی حالت میں غیر کفو میں نکاح کر لیا، تمام گھر والے اور ماں، بھائی سب اس سے ناراض ہوئے اور سمجھایا پر وہ نکاح سے باز نہیں رہی، اس غیر کفو نکاح سے بہت شور مچا، چارہ جوئی تک کی گئی، لیکن سنوائی تک نہیں ہوئی، مزید حالات بہت پیچیدہ اور معاملات غلط صورت اختیار کر گئے، آخر مسماۃ کے ماں، بھائی سب کو وطن چھوڑ کر پاکستان جانا پڑا، زید ہاشمی کا صرف ایک مکان باقی رہ گیا ہے، روپیہ، مالیت اور زمین تو غاصبین اور برباد کرنے والوں نے برباد کر دی، جو زید کے یتیم لڑکوں کو…

جواب

زید ہاشمی مرحوم کے ترکہ سے (خواہ مکان ہو یا کچھ اور) مسماۃ بحق زوجیت آٹھواں حصہ پانے کی حقدار ہے، اگر مہر باقی ہو تو اس کی بھی حقدار ہے مسماۃ کا نکاح ثانی اگر صحیح طریقہ پر بھی تسلیم کیا جائے، اور اس سے اولاد پیدا ہو تو وہ زید ہاشمی کے ترکہ سے حصہ پانے کی بالکل حقدار نہیں، وہ تو قطعاً غیر ہے البتہ مسماۃ کی جو کچھ ملک ہو خواہ اس کے پہلے شوہر سے یا والدین وغیرہ سے ملی ہو وہ ضرور…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو