لڑکی کا نکاح غیر برادری میں
سوال
(۱) زید چھپائی کا کام کرنے والے چھپا برادری سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ برادری سے عموماً شادی بیاه رشته داری برادری کے لوگوں ہی تک محدود رکھتا ہے مگر اس کے علاوہ بھی خاص مثالیں موجود ہیں۔ زید کی ایک لڑکی بیوہ مطلقہ ہے۔ زید نے اپنی برادری میں دوسال تک بڑی سرگرمی کے ساتھ اس کے لئے رشتہ کی تلاش کی مگر ناکامی ہونے پر ایک دوسری برادری کے مفتی، پرہیز گار، عالم دین لڑکے کے ساتھ رشتہ کرنے کی بات سوچی، چند احباب سے مشورہ وذکر کیا۔ حضرت مولانا مفتی محمود الحسن صاحب نے بھی معاملات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اجازت دے دی۔
جواب
(۱) لڑکی بھی رضا مند ہو لڑکی کا والد بھی رضا مند ہو تو مصلحت کے پیش نظر اس میں مضائقہ نہیں، بلکہ جائز اور درست ہے۔ (۲) یہ ظلم ہے اس میں مفاسد ہیں۔ (۳) یہ غلط کام ہے۔ غلط کام کی اعانت ہے، شرعاً جائز نہیں، اس کا انجام دنیا وآخرت میں برا ہے۔ (۴) مقتدی بھی ایسے ہی ہوں، امام بھی ایسے ہی ہوں تو پھر کیا پوچھنا۔ اللہ تعالیٰ سب کو صحیح راستہ پر چلائے، غلط راستہ سے بچائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔