الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نو مسلم کی کفاءت

سوال

ایک غیر مسلمان ہوا اس نے ترجمہ ومطلب کے ساتھ پورا کلمہ لا الله الا الله محمد رسول اللہ پڑھا، اس کے بارے میں ہمارے یہاں اختلاف پیدا ہو گیا ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ شخص مسلمان ہے، ہم اس کو اپنی سوسائٹی کا فرد تصور کریں گے اور اسے وہ سب حقوق دیں گے جو اسلام نے مسلم کو دیا ہے۔ دوسرا گروہ جو اکثریت میں ہے اس کا کہنا ہے کہ جب تک وہ پورا مسلمان نہ ہو لے نماز، روزہ سیکھ کر عمل نہ کرنے لگے تب تک ہم اس کے ساتھ مسلمانوں کا سا معاملہ نہ کریں گے ہم اسے اپنی بیٹی اس وقت تک نہ دیں گے نہ حقہ پانی میں شریک کریں گے۔

جواب

محض کلمہ پڑھنے والے کو اگر کسی شخص نے عین جہاد میں قتل کر دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عتاب فرمایا ہے۔ اور معاوضہ قتل کا حکم فرمایا ہے۔ رہا بیٹی دینا تو شرعاً اس کی ممانعت نہیں جو شخص مسلمان ہو اور وہ پورے دین پر عمل کرتا ہو اس کا وہ شخص برضاء اولیا کفو بن سکتا ہے جو کہ آج ہی اسلام لایا ہے اور بجز شہادتین کے اس کو دین کا کوئی علم حاصل نہیں، فقہاء نے باب الكفاءة…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو