الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

فرار شده عورت کے لڑکے سے نکاح

سوال

عبد الجبار کا وحیداً سے نکاح ہوا تھا۔ کچھ دنوں کے بعد آپس میں نا اتفاقی ہوگئی۔ لڑکی کو زیادہ تکلیف دینے پر لڑکی کے گھر والے آ کر لے گئے۔ پھر لڑکی کی طرف سے طلاقنامہ کا سوال پیدا ہوا، کئی مرتبہ سوال وجواب اور بات چیت ہوئی لیکن لڑکا طلاق دینے کو تیار نہیں ہوا اور نہ لڑکی کو رکھنے پر آمادہ ہوتا تھا، اس کے بعد لڑکا اپنے کام کے سلسلے میں کلکتہ چلا گیا۔ کچھ دنوں بعد لڑکی کا نکاح دوسرے شخص سے ہوا اس نکاح کے متعلق موضع کے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ خط کے ذریعہ طلاقنامہ آ گیا تھا۔ کچھ لوگوں کہنا ہے کہ نہیں آیا تھا۔

جواب

اب لڑکوں کے نسب میں بحث کرنا بے محل اور غلط ہے وہ ثابت النسب ہیں اپنی اور لڑکی کی مرضی سے اپنی لڑکی کا رشتہ آپ ان میں سے جس سے مناسب سمجھیں کر سکتے ہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو