غیر کفو میں نکاح اور نکاح فاسد میں عدت
سوال
غیر کفو میں نکاح بدون رضاء اولیاء کے ہوا۔ علماء علاقہ سے دریافت کیا گیا کہ نکاح جائز ہے یا نا جائز۔ اس میں علماء کا آپس میں اختلاف ہے ایک صاحب کہتے ہیں کہ زوج غیر کفو میں بدون رضاء اولیاء کے جس جگہ ننگ وعار موجود ہے نکاح باطل ہے اور نکاح ثانی کیلئے عدت نہیں۔ خواہ مدخولہ ہو یا غیر مدخولہ اور دوسرے صاحب کہتے ہیں کہ نکاح باطل ہو یا فاسد مدخولہ میں عدت ہے اور فریق اول کی دلیل یہ ہے نکاح فی غیر الکفوء میں باتفاق متون وشروح حدیث نادر حسن ابن زیاد پر فتوی ہے اور ظاہر الروایت متروکہ ہے لفساد الزمان۔
جواب
جب حرہ بالغہ اپنا نکاح خود کرے بغیر رضا مندی اولیاء کے تو اس میں کفاءۃ الزوج شرط ہے ظاہر الروایۃ کے موافق تو شرط لزوم نکاح ہے اور روایت حسن کے موافق شرط جواز نکاح ہے۔ اگر عورت بغیر رضا مندی اولیاء کے غیر کفو میں (جو کہ موجب عار ہو) نکاح کرے تو ظاہر الروایت کے موافق نکاح منعقد ہو جاتا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔