سیدہ کا نکاح غیر کفو میں
سوال
غلام حسین گوجر اپنے لڑکے کا نکاح اپنے سید بہنوئی کی لڑکی سے کرنا چاہتا ہے۔ اس کا بہنوئی بھی راضی ہے کہ میں اپنی لڑکی کا نکاح اپنے سالے کے لڑکے سے کروں گا۔ کشمیری علماء نے فتوی دیا ہے کہ یہ بہت برا کیا کہ ایک گوجر نے سید کی لڑکی سے نکاح کرنا چاہا ترک موالاۃ اور کفر کا فتوی دیدیا تو کیا از روئے شرع سید سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟ ان علماء کا کفر کا فتوی دینا کس حد تک صحیح ہے؟ اور کیا ایسا کرنے والا سخت گنہگار اور کافر ہوتا ہے؟
جواب
اتنی بات صحیح ہے کہ سید لڑکی کا کفو گوجر نہیں ہے اور غیر کفو میں اگر لڑکی اپنا نکاح خود کرلے تو وہ صحیح نہیں ہوتا۔ لیکن اگر وہ غیر کفو علم واخلاق وشرافت سے نوازا گیا ہو اور لڑکی کا دل بھی اس کو پسند کرتا ہو تو شرعاً نکاح منعقد وصحیح ہو جائے گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔