الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نانا کونکاح کا وکیل بنانا

سوال

مجھ سائلہ کی عمر ۲۳ سال ہے میری کامل پرورش نانانے کی ہے۔ والدہ کا انتقال ہو چکا ہے۔ میرے والد نے کبھی کوئی ہمدردی مجھ سے نہ کی۔اب وہ مجھے بلانا چاہتے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ میری زندگی وہاں پر خوشگوار نہ رہے گی۔ جو شخص (والد) میری والدہ کو نہ رکھ سکے وہ مجھ سے کیا ہمدردی رکھے گا۔ اب میں سائلہ بالغہ ہوں۔ کیا میں اپنے نکاح کی وکالت اپنے نانا صاحب کے سپرد کر سکتی ہوں۔ میں مذہباً شافعی مسلک ہوں۔ امید کہ جواب سے نوازیں گے۔

جواب

آپ نا نا صاحب کو وکیل بنادیں وہ آپ کا نکاح مناسب جگہ کردیں گے جس سے آپ کی زندگی خوشگوار گزرے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو