الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

باپ کا کیا ہوا نکاح بعد بلوغ مسخ نہیں ہو سکتا

سوال

میرے ایک رشتہ دار نے اپنی دختر کی شادی عرصہ تقریباً گیارہ سال گزرا جب کہ لڑکی کی عمر ۹/۱۰ سال کی تھی ایک لڑکے کے ساتھ کر دی تھی۔ جب سے اب تک نہ تو وہ لڑکی اپنے شوہر کے گھر میں آباد ہوئی ہے اور نہ اب تک اس نے اپنے شوہر کو اپنی آنکھ سے دیکھا ہے اور نہ ابھی اس کے شوہر نے اپنی بیوی کو کسی قسم کا کھانا خرچہ وغیرہ دیا ہے کیوں کہ وہ لڑکا بذات خود شرابی اور زانی اور بدمعاش ہے اور لڑکی نہایت ہی ٹھیک چلن شریف اور پڑھی لکھی ہوئی ہے اب جب کہ لڑکی کو ہوش آئی تو اس کے شوہر کی بد چلنی وبرائی کی وجہ سے بالکل نفرت پیدا ہو گئی ہے…

جواب

صورت مسئولہ میں چونکہ خود باپ نے نکاح کیا ہے اس لئے لڑکی کو بعد بلوغ اس کے فسخ کرنے کا حق نہیں ہے۔ باپ دادا کے علاوہ اگر کوئی اور ولی نابالغی کی حالت میں نکاح کر دے تو اس میں خیار بلوغ حاصل ہوتا ہے یعنی اگر بالغ ہوتے ہی فوراً دو گواہوں کے سامنے اس نکاح سے ناراضی ظاہر کر دے تو اس کے بعد حاکم مسلم با اختیار کے ذریعہ سے نکاح کو فسخ کرایا جا سکتا ہے لیکن یہاں پر خود باپ نے نکاح…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو