اپنی نابالغہ لڑکی کا نکاح کر دینے کے بعد بالغ ہونے پر دوسری جگہ نکاح کر دینا
سوال
خلاصہ سوال یہ ہے کہ مسمی انوار نے اپنی نابالغ لڑکیوں کا عقد کر دیا تھا، لیکن آنٹے سانٹے کی وجہ سے لڑکیاں جب بالغ ہو گئیں تو کلکٹر سے اجازت لے کر اور رقم - لے کر دوسری جگہ نکاح کر دیا۔ پھر تقریباً تین چار سال بعد جب کہ ان کے دو بچے بھی پیدا ہو چکے تھے برادری کے لوگوں نے جمع ہو کر جہاں پہلے نکاح ہوا تھا وہیں پر بھیجوا دی اور ہر سہ فریقین پر جرمانہ کیا اور سزا بھی دی۔ اب دریافت طلب یہ ہے کہ انوار کی دونوں لڑکیاں کس کے لئے جائز ہیں؟
جواب
جب انوار اپنی دونوں نابالغ لڑکیوں کا خود نکاح کر چکا تھا تو وہ صحیح اور لازم ہو گیا تھا۔ پھر ان کے بالغ ہونے پر کلکٹر سے بلاوجہ شرعی اجازت لے کر دوسری جگہ نکاح کر دیا وہ غلط اور گناہ کیا دوسرا نکاح ہرگز درست نہیں ہوا۔ برادری کو اس وقت لازم تھا کہ اس دوسرے نکاح کی پوری مخالفت کرتی، اب وہاں سے علیحدہ کر کے پہلی جگہ دونوں کو بھجوا دیا یہ ٹھیک کیا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔