باپ کے کئے ہوئے نکاح میں شرط کے خلاف ہونے پر بھی خیار بلوغ حاصل نہیں
سوال
زید نے اپنی نابالغ لڑکی کا نکاح عمر کے لڑکے کے ساتھ اس شرط پر کیا کہ عمر اپنی لڑکی کا نکاح میرے لڑکے کے ساتھ کر دے یا کسی اور رشتہ دار کی لڑکی سے کرادے اور زید کی لڑکی کی عمر اس وقت تین سال کی تھی، تو زید کی لڑکی نے بالغ ہونے پر فوراً انکار کر دیا اور عمر نے بھی زید کی لڑکی کی شادی کو انکار کر دیا تو آیا زید کی لڑکی کا نکاح ٹوٹ گیا یا نہیں؟
جواب
باپ نے جب اپنی نابالغ لڑکی کا نکاح کر دیا تو وہ صحیح اور پختہ ہو گیا۔ بالغ ہونے پر لڑکی کو اس کے فسخ کر دینے کا اختیار نہیں۔ عمر کے شرط پورا نہ کرنے کی وجہ سے اس نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ یہ نکاح باطل نہیں ہوا۔ وهو (اى النكاح) لا يبطل بالشرط الفاسد بل يبطل الشرط ويصح (النكاح) اھ شامی
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔