الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

چچا کے کئے ہوئے نکاح میں خیار بلوغ

سوال

امام الدین نے اپنی نابالغہ بھتیجی کا نکاح گل احمد کے ساتھ کر دیا۔ اس وقت منکوحہ کی عمر ساڑھے گیارہ سال کی تھی۔ اب جب کہ وہ ۲۱ سال کی ہے تو اس نے تنسیخ نکاح کا دعوی دائر کر دیا ہے کہ چچا کا نکاح کردہ چونکہ میری مرضی کے خلاف ہے۔ لہذا عدالت خیار بلوغ کے دفعہ کے تحت مجھے دوسری جگہ نکاح کی اجازت دے اور پہلے نکاح کو کالعدم قرار دیدے۔ لڑکی نے عدالت میں دعوی دائر کرنے سے پہلے کسی اجلاس یا شریعت یا قاضی کے سامنے کوئی درخواست وغیرہ نہیں دی ہے اور بلوغت کی حالت میں ۲۱ سال تک جتنا عرصہ گذرا ہے بالکل خاموش رہی ہے۔

جواب

اگر یتیمہ کا دادا یا بھائی موجود نہیں تو چا کو ولایت نکاح حاصل تھی۔ چا نے جو نکاح کیا وہ منعقد ہو گیا۔ یتیمہ کو خیار بلوغ حاصل تھا۔ اگر وہ آثارِ بلوغ ظاہر ہوتے ہی فوراً اس نکاح سے ناراضگی ظاہر کر کے اس پر گواہ بنا لیتی تو اس کو بذریعہ عدالت مسلمہ اس نکاح کو فسخ کرانے کا حق ہوتا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو