الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

باپ نے نکاح کر دیا تو حق فسخ نہیں

سوال

مسماۃ وہاب نوری کا عقد اس کے والد نے یونس لوہار سے کر دیا۔ اس بات کو تین سال ہو گئے والدہ کا انتقال ہو چکا ہے۔ آج مسماۃ نوری کو وہ عقد نا منظور ہے۔ وجہ یہ بیان کرتی ہے کہ میں کسی اور جگہ نکاح کرونگی یونس لوہار مجھے پسند نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا مسماۃ مذکورہ اپنے باپ کے کئے نکاح کو کسی وقت بھی کالعدم کرانے یا کرنے کی مجاز ہے یا نہیں؟ فقط

جواب

سوال سے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ مسماۃ وہاب نوری کا جس وقت اس کے والد نے عقد کیا تھا تو اس وقت مسماۃ کی عمر کیا تھی؟ وہ بالغہ تھی یا نا بالغہ ایک شق کو متعین کر کے لکھا جاتا ہے۔ وہ یہ کہ اگر مسماۃ وہاب نوری وقت عقد بالغہ تھی اور والد نے اس سے دریافت کیا کہ میں تمہارا عقد فلاں شخص سے کرتا ہوں تم کو منظور ہے۔ اس پر مسماۃ نے اگر اجازت دیدی یا خاموش رہی انکار نہیں کیا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو