شوہر کی بداخلاقی کی وجہ سے نابالغہ کو خیار بلوغ
سوال
محمد شفیع ومسماۃ عنایت بی کا نکاح بوجہ ان کی نابالغیت کے ان کے ولیوں نے اپنی اجازت سے تقریباً بارہ برس کا عرصہ ہوتا ہے کر دیا تھا۔ وقت نکاح محمد شفیع کی عمر آٹھ سال اور مسماۃ کی عمر چار سال تھی۔ لیکن چونکہ محمد شفیع کی اخلاقی حالت اس قسم کی ہوگئی ہے جو شریعت کے بالکل متضاد ہے۔ مثلاً ڈاڑھی منڈانا، شراب پینا، نماز کا بالکلیہ نہ پڑھنا وغیرہ، گویا کہ محمد شفیع کا چال چلن نہایت خراب ہے، جس کی وجہ سے مسماۃ عنایت بی کو اپنی جان وایمان وعصمت کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے، بلکہ یقین ہے۔
جواب
اگر نکاح مسماۃ بی کے باپ یا دادا نے کیا ہے تب تو وہ فسخ نہیں ہو سکتا بلکہ وہ لازم ہو چکا ہے۔ اب جب تک محمد شفیع طلاق نہ دے دوسری جگہ ہرگز ہرگز نکاح جائز نہیں، یا اس کے یہاں جائے یا اس سے طلاق حاصل کرے خواہ سمجھا کر یا لالچ دلا کر یا ڈرا کر جس صورت سے بھی ہو، یا خلع کرے اور کوئی صورت نہیں، اگر باپ دادا کے علاوہ کسی اور نے نکاح کیا ہے تو اس میں خیار بلوغ حاصل ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔