الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

لڑکی کا نکاح بغیر اسکی اجازت کے

سوال

زید نے اپنی بالغہ لڑکی کا نکاح لڑکی کی عدم موجودگی میں جبکہ وہ گاؤں سے سو میل دور تھی بکر سے کر دیا۔ لڑکی کو جب اس کا علم ہوا تو اس نے برجستہ کہا میں تو یہاں ہوں میرا نکاح وہاں کیسے ہو گیا ہے تو نکاح ہو گیا یا نہیں اگر لڑکی کے گھر پہونچنے پر اس کے والد اس سے رضا مندی کی اجازت لے لیں تو نکاح درست ہو گا یا نہیں؟

جواب

اگر نکاح کی خبر سن کر بر جستہ بطور فرط مسرت یہ کہا کہ میں تو یہاں ہوں میرا نکاح وہاں کیسے ہو گیا۔ یعنی اس پر خوشی کا اظہار کیا تو وہ نکاح لازم ہو گیا۔ اب نہ تجدید نکاح کی ضرورت ہے نہ دوسری جگہ نکاح کرنے کی اجازت ہے۔ بس پہلا نکاح کافی اور صحیح ہے۔ اگر بطور ناراضی وغصہ کے فقرہ مذکور کہا ہے اور اس نکاح کو نا منظور کر دیا ہے تو وہ نکاح بیکار اور کالعدم ہو گیا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو