غیر ولی کے استیذان میں سکوت اذن نہیں
سوال
ہندہ بالغہ اور مطلقہ ہے عدت گزر جانے کے بعد ایک دور کے رشتہ کے چچا سے نکاح ہوا۔ یہ بالغہ ہندہ قبل نکاح اس چچا کے ساتھ قبل راضی نہ تھی ہندہ کا ولی سواء اس کی ماں اور ماموں کے کوئی نہ تھا زید نے بغیر اجازت ہندہ کی ماں اور ماموں کے ولی ہو کر محمد سمیر کو وکیل بنایا اور دو گواہ بھیجے جب وکیل سمیر نے لڑکی ہندہ سے اذن طلب کی تو اس نے سکوت اختیار کیا تین مرتبہ پوچھا اس نے جواب نہیں دیا ملا جی نے نکاح پڑھا دیا لڑکی کہتی ہے کہ اجبار شریعت کہاں جائز رکھتی ہے۔
جواب
پہلا نکاح حسب تحریر مولوی صاحب ناجائز ہوا یعنی منعقد نہیں ہوا پھر اگر دوسرا نکاح ہندہ کی اجازت سے ہو تو وہ درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔