الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اجازت نکاح میں دل کی خواہش کا اعتبار ہے یا زبان کا

سوال

ایک قوم مثلاً راجپوت رانگڑ وغیرہ جو کہ نکاح بیوہ بیاہ کرنا برا جانتے ہیں اور بسبب جہالت کے عورتیں بھی اپنے منہ سے نکاح کی اجازت نہیں دیتیں بلکہ وہ وقت نکاح لوگوں کے سامنے انکار کر دیتی ہیں۔ یعنی ظاہر اً صاف انکار کرتی ہیں مگر دل میں خواہش یقیناً ہوتی ہے اس حالت میں کہ ظاہراً انکار کرتی ہو تو نکاح جائز ہو سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

بیوہ کے نکاح کو عار سمجھنا سخت جہالت ہے۔ عورتوں کو مسائل سمجھا کر جہاں تک ہو سکے اس رواج کو توڑنا چاہئے۔ جو عورت زبان سے انکار کرتی ہے اور دل میں نکاح کی خواہش رکھتی ہے تو شرعاً اس کی زبان کا اعتبار ہوگا۔ پھر اگر نکاح ہونے پر اس نے زبان سے انکار کیا تو وہ نکاح صحیح نہیں ہوا۔ اگر انکار نہیں کیا بلکہ خاموش رہی اور شوہر کے ساتھ راضی ہوگئی تو نکاح صحیح ہو گیا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو