بالغہ سے نکاح کی اجازت لینے کا طریقہ
سوال
کیا لڑکی سے اختیار نفس لینے کا ضروریات نکاح سے ہے، اگر یہ اختیار نہ لیا جائے تو نکاح درست ہوگا یا نہیں؟ یہاں پر یہ رواج ہے کہ نکاح کے وقت شاہدین اور وکیل تین مرتبہ لڑکے لڑکی کے پاس آتے جاتے ہیں، اور تعداد مہر میں کمی کراتے ہیں، تیسری مرتبہ میں خواہ کتنا ہی مہر ہو، اور لڑکے کی حیثیت اس قابل ہو یا نہ ہو مہر مقرر کر کے نکاح ہو جاتا ہے، اختیار نفس نہیں لیا جاتا، ایک تعلیم یافتہ صاحب کے گھر میں نکاح میں شریک تھا لڑکی بالغ تھی، وکیل شاہدین نے جا کر لڑکی سے دریافت کیا فلاں لڑکے سے تمہارا نکاح کر رہے ہیں، تم اپنا مہر…
جواب
لڑکی اگر بالغہ ہو اور اس کا ولی اس سے کہے کہ میں تمہارا نکاح فلاں لڑکے سے اتنے پر کرتا ہوں تم کو منظور ہے اسکے جواب میں لڑکی اگر کہہ دے کہ منظور ہے یا صرف ہاں کر دے یا خاموش رہے تو اتنا ہی کافی ہے، یہی اختیار نفس بھی ہے، نہ وکیل کی ضرورت نہ گواہوں کی، پھر گواہوں کے سامنے ولی خود یا اس کی اجازت سے قاضی لڑکے سے کہے کہ میں نے فلاں کی فلاں لڑکی کا نکاح تم سے اتنے مہر پر کیا تم نے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔