کس کس کے استیذان پر سکوت اذن ہے
سوال
ایک مقام پر نکاح کے وقت لڑکی کے پاس گواہ اور وکیل بن کر چند آدمی استیذان کے واسطے گئے مگر وہ لڑکی خاموش رہی اور ان لوگوں نے اسکا نکاح پڑھوا دیا یہ سمجھتے ہوئے کہ استیذان کے وقت لڑکی کی خاموشی اجازت شمار کی جاتی ہے اسمیں ذیل کی صورتوں کو واضح فرمایا جائے: (۱) استیذان کے وقت کونسی عورت کی خاموشی اذن قرار دی جاتی ہے بیوہ کی یا کنواری کی؟ (۲) اس معاملہ میں نابالغ لڑکی کا کیا حکم ہے؟ (۳) استیذان کے وقت عورت کی خاموشی اذن سمجھی جاتی ہے وہ کن کن اولیاء کے استیذان کے وقت سمجھی جاتی ہے؟ (۴)
جواب
(۱) کنواری کی۔ (۲) اقرار انکار سب کا حکم ایک سا ہے یعنی کوئی اعتبار نہیں ہے (۳) جس کو اختیار اجبار ہے اس کا وکیل ہو یا رسول ہو سکے اس میں ثم کے ذریعہ ولی قریب وبعید کی ترتیب بھی بیان کر دی۔ (۵) اگر اس سے قریب کوئی ولی موجود ہے اور انہوں نے بغیر وکالت ورسالت کے استیذان کیا ہے تو کنواری کا سکوت معتبر نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔