الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

استیذان ولی کے لئے گواہوں کی ضرورت نہیں

سوال

ہمارے یہاں شادیوں میں دولہا والے کی جانب سے دو شاہد رضامندی دولہن کی سننے کے لئے وکیل کے ساتھ عورتوں کے مجمع میں جاتے ہیں اور والدین کی جانب سے مہینوں پیشتر نسبت طے شدہ ہوتی ہے دولہا اور دولہن کی جانب سے کبھی انکار کا موقعہ اب تک نہیں آیا اب سوال یہ ہے کہ بذات خود باپ لڑکی کی جانب سے وکیل رہے اور نکاح کی مجلس میں نکاح پڑھانے والے سے اپنی ایجاب پیش کر دے تو اس حالت میں بغیر شاہدوں کے نکاح ہو جائے گا؟ مزید سنا گیا ہے کہ باپ بذات خود وکیل ہو تو شاہدوں کی ضرورت نہیں رہتی لہذا تفصیلی جواب مرحمت فرمائیں۔

جواب

باپ اپنی لڑکی سے کہہ دے کہ فلاں لڑکے سے اتنے مہر پر میں تمہارا نکاح کرتا ہوں تم کو منظور ہے اس پر اگر لڑکی صاف اجازت دیدے یا خاموش رہے یعنی عدم رضا ظاہر نہ کرے تو بس اتنی بات کافی ہے اس کے لئے شاہدوں کی ضرورت نہیں۔ پھر باپ جب مجمع میں ایجاب وقبول کرائے۔ یا اس کی اجازت سے قاضی ایجاب وقبول کرائے تو نکاح بلا تکلف صحیح ہو جائے گا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو