استیذان پر کسی اور کا اقرار کر لینا اور اذن کی صورتیں
سوال
زید کا عقد ہندہ کے ساتھ ہوا۔ چند دنوں کے بعد ہندہ نے یہ اقرار کیا کہ قاضی کے پوچھنے پر میں نے (ہاں) نہیں کہا تھا بلکہ محلہ کی فلاں عورت نے کہہ دیا تھا۔ لیکن میں اس عقد پر راضی تھی اور اب بھی ہوں، اس وقت محض شرم کی بناء پر نہیں کہا تھا۔ یہ واضح رہے کہ آج کل عام ابتلاء اس میں ہے۔ تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ یہ عقد درست ہوا یا نہیں؟ اگر نہیں تو اعادہ میں کیا پھر بار اول کی طرح اعلان کی حاجت ہے یا محض دو تین آدمیوں کے سامنے کر دینا کافی ہے۔ اگر خلوت کے بعد اس صورت کا علم ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب
اگر ہندہ بوقت عقد نابالغہ تھی تب تو اس کی رضا وعدم رضا کا صراحۃً بھی کچھ اعتبار نہیں بلکہ اس کو اس کے عقد کا اختیار من کل الوجوہ ولی کو ہے۔ اگر وہ بوقت عقد بالغہ تھی تو اس کی دو صورتیں ہیں، باکرہ تھی یا ثیبہ، اول صورت میں اس کا سکوت تبسم، بلا استہزاء ہنسنا، بلاصوت رونا۔ یہ جملہ امور صریح اذن کے حکم میں ہیں بشرطیکہ مستاذن ولی ہو یا اس کا وکیل ہو یا اس کا رسول ہو۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔