والد کی مرضی کے بغیر بالغ لڑکے کا نکاح
سوال
زید (بالغ) نے بغیر والد کی رضا مندی کے ہندہ (بالغہ) سے نکاح کر لیا ہے۔ گواہان وقاضی ونکاح رسید سب کچھ موجود ہے۔ اب چونکہ والد ناراض ہیں۔ اس لئے مسئلہ دریافت طلب ہے۔ یہ سوال سائل نے ۶ر۷ صفحات پر پھیلا دیا ہے۔ رسید نکاح بھی موجود ہے۔ اسی کی پشت پر مفتی صاحب نے یہ جواب لکھا ہے۔
جواب
اگر واقعات اسی طرح ہیں تو یہ نہایت خود غرضی، فریب دہی، جعلسازی ہے۔ خدائے پاک کے نزدیک مذموم وقبیح ہے۔ شریف معاشرہ کے نزدیک ناپسند اور موجب غضب ہے اور لائق ملامت ونفرت ہے اور رجسٹر نکاح پر غلط اندراج پر قانونی گرفت بھی ہو سکتی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔