لڑکی نے اپنا ایجاب وقبول خود کر لیا
سوال
(۱) ایک لڑکی بالغہ عاقلہ نے برضا ورغبت حسب منشاء باپ کے گھر سے ہم کفوء پھوپھی زاد بھائی کے ساتھ آکر ایک مولوی اور اسکی بیوی اور مولوی صاحب کا ایک بالغ لڑکا اور ناکح کے والدین اور ایک بالغ بھائی اور منکوحہ کی دادی کے سامنے مہر متعینہ پر ایجاب وقبول کر لیا۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایسے ہی ایجاب وقبول سے دونوں کا نکاح شرعاً منعقد ہو جائے گا؟ (۲) بلا اجازت ولی ایجاب وقبول ہو جانے میں ولی چاہتا ہے کہ حدیث” ایما امرأة يتزوج بغير اذن ولى فنكاحها باطل باطل باطل پر عمل کر کے نکاح فسخ وباطل کر سکتا ہے؟ (۳)
جواب
(۱) یہ نکاح شرعاً منعقد ہو جائے گا، لیکن جس لڑکی کے سر پر باپ موجود ہو اس کو ایسا اقدام کرنا مناسب نہیں۔” فنفذ نکاح حرة مكلفة بلارضى ولى “(درمختار) (۲) جب یہ نکاح کفو میں مہر مثل پر ہوا ہے تو ولی کو اس کے فسخ کرانے کا اختیار نہیں۔ غیر کفو میں ہوتا تو حکم کچھ اور ہوتا۔ (۳) ولی کو اختیار نہیں کہ اس نکاح کی اجازت نہ دے کر دوسری جگہ اس کا نکاح کر دے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔