چچا کی موجودگی میں ماموں کو ولایت نکاح نہیں
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ ایک لڑکی نابالغہ ہے جس کا نکاح چند سال ہوئے ہو چکا تھا اتفاقاً اس کے خاوند کا انتقال ہو گیا تھا۔ جس کو بھی عرصہ گذر چکا اور یہ نکاح اس لڑکی کے ننہال میں ہوا تھا اور اس کے والد نے نکاح کی اجازت خود دی تھی۔ بیوہ ہونے پر وہ لڑکی اپنے ننہال ہی چلی گئی اور اب تک ننہال میں ہی رہتی ہے، کیونکہ اس کے والد ووالدہ کا انتقال ہو چکا تھا۔ لیکن اس کا حقیقی چا موجود ہے اور صرف وہ ہی ولی ہے اس کے سوا کوئی ولی نہیں ہے۔
جواب
اگر وہ لڑکی نابالغہ ہے تو اس کا ولی اس کا چا ہے۔ ماموں کو چچا کی موجودگی میں نکاح کی ولایت حاصل نہیں۔ اس لئے اگر چچانے اس نکاح کی اجازت نہیں دی تو وہ نکاح نہیں ہوا۔ جن لوگوں نے بلا اجازت نکاح کیا ہے اور اس میں شریک ہوئے ان کو لازم ہے کہ وہ توبہ کریں اور اس کے چچا کے کہنے کے موافق نکاح کریں یا اس کے بالغ ہونے کا انتظار کریں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔