الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دادا کو نکاح کا اختیار باپ نے دیدیا

سوال

زید اپنے گھر سے فرار ہو گیا نہ معلوم اب کہاں ہے اس نے جاتے وقت اپنی نابالغہ لڑکی کے نکاح کی اجازت اپنے والد اور بھائی اور بیوی کو دیدی تھی۔ پھر پرچہ کے ذریعہ بھی تحریری اجازت روانہ کی ہے۔ زید کے والد نابالغہ لڑکی کا عقد کرنا چاہتے ہیں تو کیا عقد ہو جائے گا لڑکی کی عمر ۱۲ سال ہے زید کے والد کی حالت پریشان کن ہے۔ وہ اس صورت سے سبکدوش ہونا چاہتے ہیں۔ ایسی صورت میں شرعاً نکاح ہو جائے گا یا نہیں؟

جواب

جس طرح والد کو اپنی نابالغہ لڑکی کے نکاح کا خود اختیار حاصل ہے۔ اسی طرح اس کو یہ بھی اختیار ہے کہ اپنی طرف سے دوسرے شخص کو اختیار دیدے پس صورت مسئولہ میں لڑکی کے دادا اگر نکاح کر دیں تو وہ بھی شرعاً معتبر اور لازم ہو جائے گا۔ لیکن اپنے کفو میں کیا جائے اور مہر مثل سے کم پر نہ ہو کذافی رد المحتار

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو