الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نکاح میں والدین کی پسند کا لحاظ

سوال

ایک شخص بالغ اور تعلیم یافتہ صوم وصلوٰۃ کا پابند ہے اور ملازمت پر ہے۔ مگر اس کے والد اپنے سالے کی لڑکی سے نہ معلوم کسی دباؤ کے تحت شادی کرنا چاہتے ہیں۔ یہ لڑکا عاقل بالغ ہونے کے باوجود اس لڑکی سے ناراضگی ظاہر کرتا ہے اور دیگر لوگ بھی اس رشتہ سے ناخوش ہیں، مگر لڑکے کے والدین دباؤ ڈال کر زبردستی نکاح کرانے کے درپے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری نافرمانی نہ کرو۔ نیز عاق کرنے کو کہتے ہیں۔ کیا ایسی حالت میں جس نکاح کو لڑکا پسند نہیں کرتا کسی دباؤ کے تحت نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

والدین کو اپنے لڑکے سے طبعی محبت ہوتی ہے وہ فطرۃ اس کے خیر خواہ ہوتے ہیں، اپنے نزدیک بہتر جگہ شادی کرتے ہیں، اس لئے بلا وجہ ان سے گمان خراب نہ کیا جائے۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ لڑکے کی مرضی کسی دوسری جگہ ہو اور وہ اپنی پسند میں خیر سمجھتا ہو۔ والدین اپنی پسند میں خیر سمجھتے ہوں۔ لڑکے کی سعادت اس میں ہے کہ وہ والدین کی پسند کو اختیار کرے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو