الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نکاح مرتده

سوال

مسماۃ غفوراً مرتدہ ہو کر عیسائی ہو گئی اور عرصہ تک عیسائی مشن میں رہی بدقت تمام اس کو وہاں سے نکالا گیا اور پھر مسلمان کر کے مسمی عبداللہ مسماۃ کے سوتیلے باپ کے برادر زادہ سے اس کا نکاح کیا گیا عورت مذکور کے متعلق مندرجہ ذیل سوالات ہیں۔ (۱) بحالت ارتداد مسماۃ غفوراً کا نکاح شوہر سابق سے باقی رہا یا نہیں؟) (۲) اگر نکاح سابق مرتد ہونے سے فسخ ہو گیا تو عقد ثانی جو عبد اللہ سے ہوا تو صحیح ہو گا لہذا بصحت عقد ثانی شوہر سابق کا شوہر ثانی عبداللہ سے مسماۃ کے مہر کا معاوضہ کا مطالبہ کرنا درست ہے یا نہیں؟ (۳)

جواب

(۱) صورت مسئولہ میں مسماۃ مذکور کے لئے جائز نہیں کہ علاوہ شوہر سابق کے کسی اور سے نکاح کریں بلکہ اگر شوہر اول اپنے نکاح میں رکھنا چاہتا ہے تو شرعاً عورت پر جبر کیا جاوے گا کہ شوہر اول سے نکاح اول کی تجدید کرلے وليس للمرتدة التزوج بغير زوجها وبه يفتى در مختار وقال الطحطاوي وقوله تجبر على تجديد النكاح مع الزوج فلكل قاض ان يجدد النكاح بمهر يسير ولو بدينار رضيت ام لا وتمنع من…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو