الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نو مسلم جو اپنے اسلام کو مخفی رکھتا ہے اس کا نکاح مسلمان لڑکی سے

سوال

زید تعلیم یافتہ ہے اور گورنمنٹ سروس میں اعلیٰ عہدہ پر فائز ہے اس کا کہنا ہے کہ ان کے ہونے والے داماد رام نے اسلام قبول کر لیا ہے لیکن خفیہ طور پر اور سوائے زید کے یہ اسرار اور کوئی نہیں جانتا اور کچھ مصلحت جائیداد وغیرہ کی بنا پر رام نے اپنا ہندو نام تبدیل نہیں کیا ہے۔ اب زید چاہتا ہے کہ ان کی لڑکی مسلمہ کا نکاح رام سے کر دیا جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ ایک غیر مسلم اسلام قبول کرنے کے بعد بھی اپنا پرانا ہندونام رکھ سکتا ہے؟

جواب

جس طرح اس کا کفر سب کو معلوم ہے وہ مخفی نہیں ہے اسی طرح اس کے اسلام کا بھی اعلان ہونا ضروری ہے، خواہ اس طرح کہ وہ مجمع میں اسلام قبول کرے یا اپنے مسلمان ہو جانے کا اعلان کرے خواہ اس طرح کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مسجد میں نماز با جماعت ادا کیا کرے یا مسئولہ طریقہ پر اس کے خفیہ اسلام کا سہارا لیکر اس سے مسلمان لڑکی کی شادی نہ کی جائے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد اس کا نام اسلامی رکھا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو