مرتد کی زمانہ ارتداد کی اولاد سے رشتہ نکاح
سوال
شوکت علی صاحب مسلمان سے قادیانی ہو گئے۔ تقریباً آٹھ برس تک قادیانی رہے۔ علماء دیوبند اور علماء اہل حدیث سے مناظرہ ہوا۔ پھر وہ تائب ہو کر مسلمان ہو گئے، جس کا اعلان اخبارات میں کر دیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ اس عرصہ میں جو اولاد ہوئی اس کے لئے حکم شرعی کیا ہے۔ وہ باپ کے تابع ہو کر مسلمان ہیں یا نہیں؟ ان سے رشتہ کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟
جواب
جو شخص مرتد ہو جائے (نعوذ باللہ) اور پھر حق تعالیٰ کی توفیق سے اسلام قبول کرے اس کا اسلام قبول ہے۔ اس کی جو اولاد حالت ارتداد میں پیدا ہوئی وہ اگر نا سمجھ ہے تو اس کے قبول اسلام سے وہ اولاد بھی مسلمان شمار ہوگی اور جو اولاد حالت اسلام میں پیدا ہوئی وہ بھی مسلمان ہے، جو ارتداد سے قبل کی ہے وہ بھی اب مسلمان ہے۔ الا یہ کہ بالغ اولاد (خدا نخواستہ) خود ہی قادیانیت کو اختیار کرلے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔