جو مسلمان عیسائی ہو جائے اس کا نکاح
سوال
جو لوگ مسلمان کہلاتے ہیں اور مرتدین عیسائیوں سے رشتہ مناکحت قائم کرتے ہیں ان کا کیا حکم ہے کیا یہ مرتد لوگ بھی اہل کتاب ہیں اور ان مرتدین سے تعلقات رکھنا مسلمانوں کو جائز ہے یا نہیں، جو امام مسجد ایسے لوگوں کے ساتھ موالات رکھے ان کا کھانا کھائے اس کا کیا حکم ہے؟ جو شخص مسلمان تھا پھر مرتد ہو گیا (العیاذ باللہ) تو کیا ان کی لڑکیوں کا رشتہ لینا جائز ہے؟ آیات قرآنیہ سے اس کو واضح فرمایا جائے۔
جواب
جو شخص پہلے مسلمان تھا پھر مذہب عیسائی اختیار کر لیا (العیاذ باللہ) تو یہ شخص مرتد ہے ایسے شخص کا نکاح کسی مسلمہ، کافرہ، مرتدہ سے جائز نہیں اور جو عورت ارتداد اختیار کرے اس کا بھی نکاح کسی سے درست نہیں مرتد عیسائی کی لڑکی بھی اگر مرتدہ ہو تو اس سے بھی نکاح ناجائز ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔