الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دھو کہ دیکر کافر سے نکاح

سوال

ایک مسلمان شخص نے ایک کافر عورت کو رکھ لیا، پہلے شوہر سے اسکے دو لڑکے ہیں جو کافر ہی ہیں، اس مسلمان شخص کے دوست نے ایک غریب مسلمان لڑکی کو دھو کہ دیکر اس سے اس عورت کے کافر لڑکے سے نکاح کرا دیا اور لڑکی کو رخصت کر دیا، جب لڑکی کو معلوم ہوا کہ اسکا کا فرلڑکے سے نکاح کیا گیا ہے تو لڑکی سخت بیزار ہوئی اور اس کافر کے پاس جانے کو تیار نہیں، اس صورت میں یہ نکاح ہوا یا نہیں؟ اور جس نے یہ نکاح کیا ہے اسکے لئے کیا حکم ہے؟

جواب

یہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوا لڑکی ہرگز اس خبیث کافر کے پاس نہ جائے۔ جس نے یہ فریب کیا ہے وہ انتہائی درجہ بے غیرت اور سخت گنہگار ہے۔ ہمیشہ اس کے فریب سے ہوشیار رہنا چاہئے۔ جس نے کافر عورت کو رکھ لیا ہے وہ بھی زنا کاری میں مبتلا ہے۔ اس سے اس عورت کو الگ کر دیا جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو