الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بیٹی کا بلا تحقیق غیر مسلک میں نکاح

سوال

میں نے اپنی لڑکی کی شادی نا آشنائی میں ایک جگہ کی، جس وقت میری لڑکی اپنی سسرال کو گئی تو پتہ چلا کہ وہ دوسرے مسلک کے آدمی ہیں۔ یہ بھی نہیں طے کر سکتا کہ وہ کونسا مسلک ہے جس کی وہ لوگ اقتداء کرتے ہیں۔ ایک روز کا واقعہ ہے کہ انھوں نے صبح کو میری لڑکی سے کہا کہ روزہ رکھو۔ میری لڑکی نے کہا ہم نے کہیں ایسا روزہ نہیں رکھا۔ ان لوگوں نے روزہ رکھا اور عصر کے بعد افطار کر لیا۔ میری لڑکی کو بہت زیادہ مطعون کیا۔ ان کے بڑے بھائی کے گھر میں شیعہ کی لڑکی ہے، ان کا کوئی طریقہ مسلمانوں جیسا نہیں ہے۔

جواب

بلا تحقیق وتفتیش کے لڑکی کی شادی کر دینا غیر دانشمندانہ فعل ہے جس سے لڑکی کی زندگی بھی تباہ ہوسکتی ہے دین بھی خراب ہو سکتا ہے۔ اب تحقیق کی جائے اگر شوہر کے عقیدے اسلامی عقیدے نہیں۔ نماز کو فرض نہیں کہتے، روزہ کو محض عصر کے بعد تک کہتے ہیں غروب تک نہیں کہتے ہیں تو ایسے شخص سے نکاح ہی درست نہیں لڑکی کو وہاں سے علیحدہ کر لیا جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو