الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سوتیلی ساس سے نکاح

سوال

زید اپنی سوتیلی ساس سے نکاح کر سکتا ہے یا نہیں جب کہ وہ نہ پھو پھی اور نہ خالہ وغیرہ ہے اور اگر نکاح ہو چکا ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

جن دو عورتوں میں ایسا تعلق ہو کہ اگر ایک کو مرد فرض کرنے سے دوسری سے اس کا نکاح جائز نہ ہو دونوں طرف سے حرمت ہو تو ایسی دو عورتوں کو نکاح میں جمع کرنا درست نہیں اگر ایک طرف سے جائز ہو دوسری طرف سے حرمت ہو تو دونوں کو جمع کرنا درست ہے، سوتیلی ساس سے نکاح کرنا شرعاً درست ہے، کیونکہ زید کی بیوی کو اگر مرد فرض کیا جائے تو اس کا نکاح زید کی سوتیلی ساس سے درست نہیں کیوں کہ وہ موطوءۃ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو