الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ایک عورت سے نکاح کے بعد اس کی بیٹی سے نکاح کرنا

سوال

زیب النساء بیوہ سے شرف الدین نے نکاح کیا۔ ابھی صحبت نہیں ہوئی تھی کہ بیوہ نے اپنی نابالغہ لڑکی کا نکاح شرف الدین سے کر دیا جس پر برادری میں شور مچ گیا۔ یہ بات بالکل سچی ہے کہ ابھی خلوت پہلی بیوی زیب النساء سے نہیں ہوئی۔ تو اب کونسا نکاح درست ہے؟

جواب

ماں اور بیٹی کا نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔ لہذا جب زیب النساء سے نکاح ہو چکا ہے تو اس کی لڑکی سے نکاح جائز نہیں ہوا۔ مگر چونکہ ابھی زیب النساء سے صحبت اور تنہائی کی نوبت نہیں آئی، اس لئے اس کو اگر اس حالت میں طلاق دیدے گا تو اس کی لڑکی سے نکاح کی اجازت ہو جائے گی۔ لیکن یہ نکاح کافی نہیں ہوگا دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو