الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

علاقی سالی سے نکاح

سوال

زید نے زبیدہ سے نکاح کیا جس سے چند لڑ کے بھی پیدا ہوئے۔ بعدہ زید نے زبیدہ کی حیات میں زبیدہ کو طلاق دیئے بغیر اس کی علاتی بہن خدیجہ سے شادی کر لی۔ خدیجہ کے والدین اور گاؤں والوں نے بہت سمجھایا لیکن خدیجہ اور کہیں نکاح کے لئے آمادہ نہیں ہوئی نہ زید زبیدہ کو طلاق دینے کو تیار ہوا۔ زبیدہ بھی طلاق لینے پر آمادہ نہ ہوئی۔ ایسی صورت میں خدیجہ کا نکاح زید سے درست ہوا یا نہیں؟ کیا ان لوگوں سے قطع تعلق ضروری ہے اگر نہ کیا جائے تو کیسا ہے زید کی کمائی زبیدہ اور ان کے خسر اور سالے وغیرہ کو کھانا کیسا ہے؟

جواب

یہ نکاح حرام ہے لوگوں کو چاہئے کہ زید اور خدیجہ کے درمیان تفریق کرا دیں۔ اگر وہ نہ مانیں تو ان سے قطع تعلق کر دیں یہاں تک کہ وہ تنگ آ کر توبہ کرلیں اور حرام سے کنارہ کش ہو جائیں۔ جب تک وہ اس حرام کاری سے باز نہ آئیں ان سے میل جول نہیں رکھنا چاہئے خسر اور سالے وغیرہ کو خصوصیت سے اس معاملہ میں زور ڈالنے کی ضرورت ہے۔ یہ لوگ لین دین بالکل بند کر دیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو