ربیب کی ماں کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس کی مطلقہ بیوی سے نکاح
سوال
ایک شخص نے اپنی بھاوج سے نکاح کیا۔ اس کا ایک بچہ بھائی کا دودھ پی رہا تھا۔ جب یہ بچہ جوان ہوگیا تو اس کی شادی کر دی اس لڑکے نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی، تو پھر چچا نے اس کی بیوی سے بھی نکاح کر لیا، تو یہ نکاح جائز ہے یا نہیں؟ جب کہ لڑکے کی ماں اس کے نکاح میں موجود ہے۔ لوگ اس کو زنا کہتے ہیں۔
جواب
ایسی دو عورتوں کو نکاح میں جمع کرنا نا جائز ہے کہ دونوں میں سے جس کو بھی مرد فرض کیا جائے تو اس کا نکاح دوسری سے ناجائز ہو۔ یہاں یہ صورت ہے کہ اگر اپنی پہلی منکوحہ کو شخص مرد فرض کرے تو اس کا نکاح لڑکے کی بیوی سے ناجائز ہوگا، کیونکہ وہ اس کے بیٹے کی بیوی ہوگی اور قرآن کریم میں ہے وحلائل ابنائكم الذين من اصلابكم، اگر اس لڑکے کی بیوی کو مرد فرض کریں تو اس کا نکاح اس پہلی منکوحہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔