الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنا

سوال

ایک صاحب جو کہ نیک صالح ہیں اور نمازی بھی ہیں ان کی عمر اس وقت تقریباً پچاس سال کی ہے دو سگی بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں رکھ رہے ہیں ایک بیوی جس سے متعدد اولاد بھی ہوئی لیکن اب اس پہلی والی بیوی سے ہمبستری نہیں کرتے ہیں نہ اس کا پکا ہوا کھانا کھاتے ہیں۔ دوسری بیوی جس کی دو تین اولادیں بھی ہوئیں اس سے ہمبستری کرتے ہیں غرض کہ عرصہ دراز سے اس فعل حرام میں منہمک ہیں تو کیا ایسے شخص کے گھر کھانا کھانا جائز ہے جب کہ وہ یہ کام عمداً کر رہے ہیں اور دوسری بیوی ہے وہ بحمد اللہ نیک صالح نمازی بھی ہیں ان کی لڑکی یا لڑکے سے…

جواب

دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنا حرام ہے لقوله تعالى حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ أُمَّهَاتُكُمُ الى قوله تعالى وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الاخْتَيْنِ جو شخص ایسے حرام کام میں مبتلا ہو جس کو قرآن کریم میں حرام قرار دیا گیا ہو اس کو نیک صالح کہنا غلط ہے جب ان کے یہاں کھانا پینا ترک کر دینے سے انکی اصلاح کی توقع ہو کہ وہ دوسری بیوی کو جو کہ شرعاً بیوی نہیں ہے چھوڑ دیں اور ترک تعلق کر دیں…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو