الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بیوی کی بہن سے نکاح

سوال

زید نے ہندہ سے شادی کی مگر چند دنوں کے بعد اس نے ہندہ ہی کی حقیقی بہن سے شادی کر لی جب کہ ہندہ اس کے نکاح میں پہلے سے موجود تھی۔ تو دریافت طلب یہ ہے کہ نکاح ثانی درست ہوا یا نہیں؟ اگر درست نہیں ہوا تو پہلی بیوی پر اس کا کچھ اثر پڑے گا یا نہیں؟

جواب

بیک وقت دو بہنوں کو نکاح میں رکھنا حرام ہے لقوله تعالى وان تجمعوا بين الاختين، الآية صورت مسئولہ میں دوسرا نکاح باطل ہوا۔ ولو تزوج اختين في عقدين ولم تعلم الأولى الخ، اذ لو علمت لبطل نكاح الثانية (سكب الانهر ص ۳۲۵ /ج ۱) زيد پر لازم ہے کہ فوراً دوسری عورت سے علیحدگی اختیار کر کے صدق دل سے توبہ واستغفار کرے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو