الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

رضاعی ماں کی اولاد سے نکاح

سوال

حکم شرع اس بارے میں کیا ہے؟ جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔ (۱) لڑکی انتقال کم عمری میں (۱) لڑکی مرحوم (۲) لڑکا (۲) لڑکی مرحوم (۳) لڑکا (۳) لڑکا (۴) لڑکی شادی شدہ(۴) لڑکا (۵) لڑکا (۵) لڑکی شادی شدہ (۶) لڑکی مرحوم (۶) لڑکا (۷) لڑکا (۸) لڑکا (۹) لڑکی (۱۰) لڑکی الف اور ب آپس میں رشتہ دار، الف بھاوج اور ب نند ہے اور ایک ہی جگہ رہتے تھے۔ ب کو ہمیشہ دودھ کی کمی رہتی تھی۔

جواب

جب کہ ب کے چوتھے لڑکے نے الف کا دودھ پیا ہے تو الف اس کی رضاعی والدہ ہو گئی اور الف کی سب اولاد اس کے رضاعی بھائی بہن بن گئے۔ اس کی شادی الف کی کسی بھی لڑکی کے ساتھ جائز نہیں بالکل حرام ہے۔ اس نے دودھ الف کے کسی لڑکے یا لڑکی کے زمانہ شیر خوارگی میں پیا ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو