والد کی رضاعی بہن سے نکاح
سوال
زید نے خالدہ سے نکاح کیا اور خالدہ کے دو بچے زید سے نوازش علی اور زینب پیدا ہوئی۔ اس کے بعد خالدہ کا انتقال ہو گیا تو زید نے ہندہ سے نکاح کر لیا۔ ہندہ کے زمانے سے دو بچے ایک نصیب علی اور طاہرہ پیدا ہوئے اس کے بعد زید کا انتقال ہو گیا۔ زید کے انتقال کے تقریباً دس بارہ سال بعد نوازش علی کے ایک لڑکی زبیدہ پیدا ہوئی نوازش علی کی بیوی زبیدہ کے پیدا ہونے کے دس بارہ دن کے بعد انتقال کر گئی۔ اس کے بعد زبیدہ کو ہندہ نے جو کہ زبیدہ کی سوتیلی دادی ہے اس نے اپنا دودھ پلا کر پرورش کیا۔ قدرتی طور پر ہندہ کو دودھ اتر آیا۔
جواب
زبیدہ نے جب اپنے دادا کی بیوی ہندہ کا دودھ ایام رضاعت میں پیا تو ہندہ رضاعی والدہ ہو گئی اور ہندہ کا شوہر یعنی زبیدہ کا دادا رضاعی والد ہو گیا۔ جس طرح نسبی والد کی اولاد در اولاد سب سے نکاح حرام ہوتا ہے اسی طرح رضاعی والد کی بھی اولاد در اولاد سب سے نکاح حرام ہوتا ہے۔ لہذا اس صورت میں نسبی (۱) کے اعتبار سے تو صغیر احمد (۱) نسبی پھوپی زاد بھائی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔