بیٹی کو باشہوت چھونے سے حرمت مصاہرت اور اس کی شرائط
سوال
زید نے اپنی بیٹی کو لاعلمی اور شبہ سے بالشہوۃ چھولیا تو کیا زید پر اپنی بیوی ہمیشہ کے لئے حرام ہو گئی، جیسا کہ امام اعظم کا مسلک ہے۔ مفتی حضرات اجازت دیتے ہیں کہ وہ اپنی بیوی کو رکھ سکتا ہے۔ اگر زید اپنی بیوی کو علیحدہ نہیں کرتا تو وہ فی مابینہ وبین اللہ آثم ہوگا یا نہیں؟ اور اس صورت میں جو بچہ پیدا ہوا ہے وہ حرامی ہے یا نہیں؟ اور اگر ان کو یہ مسئلہ نہ معلوم ہو تو کچھ گنجائش بیوی کو رکھنے کی ہے یا نہیں؟ دوسرے جن لوگوں کو مسئلہ معلوم ہوان کے ذمہ لازم ہے کہ وہ زید کو اس مسئلہ سے آگاہ کریں یا نہیں؟
جواب
اگر زید نے اپنی قابل شہوت (بالغ یا قریب البلوغ) لڑکی کو بغیر کپڑے کے یا باریک کپڑے کے اوپر سے جو جسم کی گرمی محسوس ہونے سے مانع نہ ہو ایسے طریقے پر ہاتھ لگایا ہے کہ اس کو ہاتھ لگانے سے شہوت پیدا ہوگئی، یا پہلے سے موجود تھی اس میں اضافہ ہو گیا تو اس لڑکی کی والدہ زید پر حرام ہوگئی زید کے لئے واجب ہے کہ اس کو آزاد کر دے اور تعلق زوجیت ختم کر دے اگر بیوی کے لئے اور کوئی ٹھکانہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔