دائی کو ہاتھ لگانے سے حرمت کا حکم
سوال
ایک صاحب کی شادی کو آٹھ سال ہو چکے ہیں۔ ان کو یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی لڑکی کی دائی کو (دودھ پلانے والی کو) شہوت سے ہاتھ لگائے تو اس لڑکی سے نکاح درست نہیں۔ یہ صاحب کہتے ہیں کہ دس سال پہلے ان کی بیوی کی دائی کے دماغ میں کچھ خلل واقع ہو گیا تھا اس نے ان صاحب کو پکڑ لیا تھا اور ان کو شہوت بھی ہوگئی تھی، پھر اس دائی سے ہاتھ چھڑا کر بھاگے۔اس صورت میں کیا کریں؟
جواب
اگر خرابی دماغ کی حالت میں اس عورت نے ان کو پکڑا جس سے ان کو شہوت ہو گئی مگر یہ فورا ہاتھ چھڑا کر بھاگ گئے تو اس سے ان کی بیوی حرام نہیں ہوئی یہاں اگر عورت نے شہوت سے ہاتھ پکڑا تھا اور اس کی شہوت میں اس پکڑنے سے اضافہ ہو گیا تو پھر ان کی بیوی ان پر حرام ہوگئی ہے اب اس سے تعلق زوجیت ختم کر دیں بلکہ صاف لفظوں میں طلاق دیدیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔