الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

زنا سے رشتہ کا ثبوت

سوال

ایک شخص اپنی بیٹی سے ملوث ہو گیا۔ نتیجہ میں لڑکی ہوئی۔ جس کو ایک بیوہ نے پالا۔ لڑکی بالغہ ہوگئی شادی ہو گئی اس سے لڑکی ہوئی، اب اس لڑکی کی جس سے منگنی ہورہی ہے وہ اس کا ماموں ہوتا ہے کہ زانیہ کی ماں نے ایک رنڈوے سے شادی کر لی تھی جس سے یہ لڑکا ہوا تھا۔ اب اگر معاملہ صحیح ظاہر کیا جاتا ہے تو بدنامی اور رسوائی ہے۔ اگر نہیں کیا جاتا تو کیا شرعاً حرج تو نہیں اور پھر ان واقعات کا ثبوت کارے دارد ہے اور نہ ہی شاہد ہے۔

جواب

اس لڑکے اور لڑکی کے درمیان ماموں بھانجی کا رشتہ شریعت کی رو سے تو موجود نہیں اور جو اس رشتہ کی بیان کاری ہے اس پر شرعی شہادت نہیں۔ لہذا اس رشتہ کو حرام نہیں کہا جائے گا جن صاحب کو اصل مخفی واقعہ معلوم ہے وہ شہادت نہیں دیتے۔ جیسا کہ آپ نے خود ہی لکھا ہے اگر شہادت دیں بھی تو تنہا شہادت پر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ لڑکا اور لڑکی میں کوئی مدعی حرمت نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو