سوتیلی ماں کو بد نیتی سے ہاتھ لگایا حرمت مصاہرت کی وجہ
سوال
زید نے اپنی سوتیلی ماں کو بد نیتی سے ہاتھ لگایا۔ مگر سوتیلی ماں نے اپنے کو پوری طاقت سے زنا بالجبر سے بچالیا۔ جب شوہر تھوڑی دیر کے بعد آیا تو عورت نے لڑکے کی گستاخی کا ذکر کیا۔ ماں نے یہ بھی کہا کہ اپنے کو بچانے کے لئے لڑکے کے چہرہ کو زخمی کر دیا، چنانچہ لڑکے کے چہرہ پر نشان شوہر کو دکھلا دیا۔ باپ اور بیٹے کی تھوڑی دیر بعد ملاقات ہوئی تو باپ نے یہ کہا کہ تم آج سے یہاں نہ رہو کہیں چلے جاؤ۔ چنانچہ وہ لڑکا اپنی ماں کے پاس چلا گیا اور یہ بات کسی کو معلوم نہ ہوئی۔ اس واقعہ کو تقریباً چار برس ہو گئے۔
جواب
اگر زید نے بغیر کپڑے کے سوتیلی ماں کے جسم کے کسی بھی حصہ کو شہوت سے ہاتھ لگایا ہے اور اس سے شہوت پیدا ہوگئی یا شہوت میں اضافہ ہو گیا یا کپڑے کے اوپر سے مس کیا مگر وہ کپڑا اتنا باریک تھا کہ جسم کی حرارت محسوس ہوئی نیز زید کو انزال نہ ہوا ہو تو وہ زید کے والد پر ہمیشہ کے لئے حرام ہوگئی اس کو دوسرے سے ابھی نکاح کی اجازت نہیں ہوگی بلکہ شوہر کے ذمہ واجب ہے کہ تعلق زوجیت ختم کر دے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔