خط بابت استفتاء بالا
سوال
مکرمی ومحترمی حضرت مفتی صاحب دامت عنایتهم وفیوضہم السلام علیکم ورحمة الله اسی رمضان میں ایک استفتاء جناب کی خدمت اقدس میں پیش کیا تھا جس کا جواب وصول ہو گیا اب پھر دوبارہ تکلیف دینے کی جرات کر رہا ہوں معاف فرماویں۔ اس سلسلہ میں ضروری عرض یہ ہے کہ اس استفتاء کے سوال کے جواب میں جناب نے ارقام فرمایا کہ لامس وملموسہ کی اولاد آپس میں نکاح کر سکتی ہے لیکن وہی استفتاء حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب مدظلہ کے پاس ارسال کیا تو انہوں نے یہ جواب دیا کہ نکاح نہیں ہوسکتا حوالجات طرفین سے نہیں لکھے گئے نہ جناب محترم نے نہ حضرت مفتی…
جواب
مکرمی زید مجدہ السلام علیکم ورحمتہ اللہ یہاں کے فتویٰ کے مسئلہ کا استدلال عبارات ذیل سے ہے: اگر کسی شخص نے جس کے لڑکا موجود ہے ایسی عورت سے نکاح کیا جس کے پہلے شوہر سے لڑکی ہے تو اس لڑکے اور لڑکی کا آپس میں نکاح سب کے نزدیک درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔