خسر کا اپنی بہو کو بدکاری کے لئے کہنا
سوال
ایک شخص نے اپنے سگے بیٹے کی بیوی سے بدنیتی سے کہا کہ میرے ساتھ صحبت کرالو یہ بات ایک بار نہیں تین بار کہا۔ عورت نے مجبور ہوکر اپنے گھر والے کو کہدیا۔ گھر والے نے جواب دیا چپ رہ کئی دنوں کے بعد بدکاری کے لئے پھر کہا۔ عورت نے مجبوراً اپنے باپ اور دیگر رشتہ داروں سے کہ دیا۔ اب سوال یہ ہے کہ اس صورت میں لڑکے کا نکاح باقی رہا یا نہیں؟
جواب
اگر خالی زبان سے کہا ہے ہاتھ نہیں لگایا تو اس سے کچھ نہیں ہوا، اگر اس کے بدن کو ہاتھ لگایا کہ بدن کی گرمی محسوس ہوئی اور شہوت پیدا ہوگئی یا پہلے سے شہوت تھی اس میں اضافہ ہو گیا اور عورت کے شوہر نے اس کی تصدیق کی تو وہ اپنے شوہر پر حرام ہوگئی اس کے ذمہ لازم ہے کہ طلاق دے کر آزاد کر دے اگر شوہر کے نزدیک یہ بات غلط ہے تو حرام نہیں ہوئی ہے لیکن اس کا انتظام کیا جائے کہ آئندہ ایسی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔