الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ماں، ساس، بیٹے کی بیوی کو مس کرنے سے حرمت مصاہرت

سوال

اگر کوئی شخص غلطی سے اپنی ماں کو بیوی سمجھ کر شہوت سے ہاتھ لگائے تو کیا اس کی بیوی اس پر حرام ہو جائے گی اور اس کو کتنا گناہ ہوگا۔ ایسے ہی اگر کوئی شخص غلطی سے اپنی بیوی سمجھ کر ساس کو ہاتھ لگا دے تو بیوی حرام ہونے پر کیا ساس سے نکاح ہو سکے گا۔ ایسے ہی بعض ملحدین اپنی اولاد کی بیویوں سے صحبت کرتے ہیں تو کیا اولاد پر بیویاں حرام ہو جائیں گی اور خسر پر اس کا کتنا گناہ ہوگا؟ فقط

جواب

اگر واقعی غلطی سے ماں کو بیوی سمجھ کر شہوت سے ہاتھ لگایا اور معلوم ہونے پر نادم ہوا تو اس سے گناہ نہیں ہوا نہ اس سے بیوی اس پر حرام ہوئی۔ البتہ وہ ماں اس کے باپ پر حرام ہو جائیگی جب کہ باپ اس کی تصدیق کرے ساس کو شہوت سے ہاتھ لگانے سے بیوی حرام ہو جاوے گی اگر چہ غلطی ہی سے ہاتھ لگایا ہو اور ساس سے بھی نکاح جائز نہ ہوگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو