بیٹے کی بیوی سے ناجائز تعلق
سوال
ہندہ نے نکاح ثانی زید سے کیا جو کہ نابالغ تھا اس درمیان میں ہندہ کا تعلق اپنے خسر بکر سے ہو گیا جب زید سن بلوغ کو پہنچا تو اس نے اپنے والد بکر کو اپنی زوجہ ہندہ سے زنا کرتے ہوئے دیکھا وہ غیرت کا مارا اسی وقت اپنے وطن سے نکل گیا اور اب تک واپس نہیں آیا، اس کی عدم موجودگی میں ہندہ کے چند بچے پیدا ہوئے اور وہ بچے بعض بالغ ہیں بعض آٹھ دس سال کے، برادری میں عام چرچہ ہے کہ یہ سب بچے ولد الحرام ہیں اب بکر ان بچوں کی شادی اپنے اخراجات سے کرنا چاہتا ہے۔
جواب
زنا کی حرمت نص قطعی سے ثابت ہے اس کا مرتکب فاسق ہے جب تک بکر ہندہ سے تعلق قطع کر کے سچی توبہ نہ کرے اس کے ساتھ اختلاط میل جول نہ کرنا چاہئے بلکہ اگر مفید ہو تو اس سے سب مل کر قطع تعلق کریں کہ وہ تنگ آ کر توبہ کر لے نیز جب اس لڑکے نے بیوی کو اپنے باپ سے زنا کرتے ہوئے دیکھا تو وہ بیوی اس شوہر پر حرام ہو گئی ہے تنبیہ: بلاشرعی ثبوت کے کسی کو ولد الزنا کہنا حرام ہے اسی طرح کسی کو…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔