الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نواسہ کی بیوی سے بوس وکنار کی بناء پر حرمت

سوال

زید نے اپنے نواسہ کی منکوحہ سے بوس وکنار کیا۔ یہ بیان صرف لڑکی کا ہے اور کوئی شہادت نہیں اور وہ لڑکی زید کی بھتیجی بھی ہوتی ہے۔ تو کیا وہ لڑکی زید کے نواسہ پر حرام ہوگئی یا نہیں؟ نیز اگر نواسہ اپنی مذکورہ بیوی کو طلاق دیدے تو نانا اس سے نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟ حرمت مصاہرت کے سلسلہ میں دادا اور نانا میں کچھ فرق ہے یا نہیں؟

جواب

زید (نانا) پر اس کے نواسہ کی منکوحہ تو اسی وقت حرام ہو گئی تھی جب کہ اس کے نواسہ نے اس سے نکاح کیا تھا اور زید نانا نے اپنے نواسے کی بیوی کو شہوت سے بوسہ دیا اور نواسہ نے اس کی تصدیق بھی کر دی تو اب یہ نواسہ کی منکوحہ خود اپنے زوج پر بھی حرام ہوگئی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو