اپنی لڑکی کو شہوت سے چھونے سے حرمت
سوال
ایک شخص رات کے وقت اپنی نفسانی خواہش کے واسطے اپنی بیوی کی چار پائی کے پاس گیا اس کی بیوی کے پاس اس کی لڑکی سوئی ہوئی تھی اس کا ہاتھ لڑکی کو لگ گیا یعنی بازو وغیرہ کو تو اس کو اسی وقت معلوم ہو گیا کہ میری لڑکی ہے اس کے واسطے کیا حکم ہے۔ اس مسئلہ کی بابت مولوی اشرف علی صاحب اپنے بہشتی زیور میں لکھتے ہیں اس مرد کی عورت اس پر نا جائز ہوگی وہ اپنی عورت کو طلاق دیدے۔ میں آپ کی خدمت میں گذارش کرتا ہوں کہ غلطی اس سے ہوئی پھر اس کی عورت کا کیا قصور ہے؟
جواب
حضرت مولانا اشرف علی صاحب اس مسئلہ کو بہشتی زیور حصہ چہارم کے صفحہ ۶۹ پر تحریر فرماتے ہیں اور آپ کے اس شبہ کا جواب امداد الفتاوی کے تمہ ثالث ص ۱۳۴ میں دیا ہے ان سے یہی سوال کیا گیا ہے اس کے جواب میں لکھا ہے۔ ”اس کا حرام ہونا کسی قصور کی وجہ سے نہیں بلکہ جب سبب پایا جاتا ہے تو مسبب بھی پایا جاتا ہے کوئی شخص بھولے سے زہر کھالے گناہ تو نہیں مگر مرتو جاویگا یعنی جیسا کہ خواہ بھول…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔