الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بیٹے کی بیوی کا بوسہ وغیرہ لینے سے حرمت

سوال

ایک شخص نے مندرجہ ذیل سوالات کے حسب ذیل حلفی بیانات دیئے۔ (۱) خدائے پاک اور قرآن شریف کی قسم کھا کر اور اپنے قلم سے لکھ کر بیان کرو کہ کیا تم نے اپنے بیٹے کی بیوی کے ساتھ سوتے وقت چھ سات روز تک متواتر یہ حرکتیں کیں کہ اس کی چھاتی کئی مرتبہ پکڑی اس کو منھ کھول دینے پر مجبور کیا اس کے گالوں پر دو مرتبہ بوسہ دیا یعنی چوما اور اس کا کمر بند کھولا یا کھولنا چاہا اور کہا کہ میری جان میں تجھ پر عاشق ہو گیا ہوں۔ (۲)

جواب

صورت مسئولہ میں عند الاحناف عمر کے لئے اس بیوی کو اپنے نکاح میں رکھنا جائز نہیں بلکہ اس سے متارکت ضروری ہے کیونکہ مصاہرت کی وجہ سے اس پر حرام ہوگئی یہ حرمت بلا انزال ثابت ہو جاتی ہے ولو اخذ ثديها وقال كان عن غير شهوة لا يصدق خلاصه ص۹ /ج ۲، اور عالمگیری ص ۲۸۴ / ج ۲ میں ہے لان الغالب خلافه قال في الفتاوى الهنديه وكان الشيخ الامام الاجل ظهیر الدین مرغینانی یفتى بالحرمة في القبلة…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو